بٹ کوائن نیٹ ورک کی روزانہ لین دین کی تعداد 800,000 سے تجاوز کر گئی ہے جو 2026 میں ریکارڈ کی گئی سب سے زیادہ سطح ہے، جو 2024 کے آخر کے بعد پہلی بار اتنی بلند سطح پر پہنچا ہے۔ تاہم، اس بڑھتی ہوئی سرگرمی کی نوعیت مختلف ہے کیونکہ زیادہ تر لین دین چھوٹے سائز کے ہیں، جن کی مالیت 0.01 بٹ کوائن سے کم ہے۔ اس کا سبب بٹ کوائن کے پروٹوکول پر مبنی سرگرمیاں ہیں جیسے کہ آرڈینلز، رونس، اور بی آر سی-20 ٹوکنز، جو نیٹ ورک پر ڈیٹا منسلک کرنے کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔ اس تبدیلی نے نیٹ ورک پر میم پول کی بھیڑ بڑھا دی ہے، جس سے کم فیس والے لین دین میں تاخیر کا امکان ہے۔ اس صورتحال کا فوری اثر یہ ہے کہ نیٹ ورک کی مصروفیت میں اضافہ ہوا ہے لیکن اس کا قیمت پر اثر محدود رہا ہے کیونکہ یہ سرگرمیاں مالی لین دین کی بجائے تکنیکی استعمال کی نمائندگی کرتی ہیں۔ مستقبل میں، اگر میم پول کی بھیڑ برقرار رہی تو ٹرانزیکشن فیس میں اضافہ ہو سکتا ہے، جو وقت حساس مالی لین دین کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ بٹ کوائن نیٹ ورک کی فعالیت میں تبدیلی آ رہی ہے، جو سرمایہ کاروں اور صارفین دونوں کے لیے اہم ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: bitcoinmagazine