امریکی جون کے صارف قیمت اشاریہ (CPI) کے اعداد و شمار نے شرح سود میں اضافے کے امکانات کو نمایاں طور پر کم کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں بٹ کوائن کی قیمت 65,000 ڈالر کے قریب پہنچ گئی ہے۔ مہنگائی کی شرح میں کمی نے سرمایہ کاروں کی توقعات کو متاثر کیا ہے اور اب وہ ستمبر میں ہونے والی فیڈرل اوپن مارکیٹ کمیٹی (FOMC) کی میٹنگ پر نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ مستقبل کی پالیسی کے بارے میں رہنمائی حاصل کی جا سکے۔ اس تبدیلی نے مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کو کم کیا ہے اور کرپٹو کرنسیوں میں سرمایہ کاری کے رجحان کو فروغ دیا ہے۔ تاہم، سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ شرح سود میں ممکنہ تبدیلیاں مارکیٹ کی سمت پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔ اس صورتحال میں، بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو اثاثوں کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ متوقع ہے، جس کا اثر عالمی مالیاتی منڈیوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk