بٹ کوائن کے حامیوں نے حالیہ ہفتے میں تقریباً 17 فیصد کی کمی کو وقتی لیکویڈیٹی کے بحران کے طور پر دیکھا ہے، جس کی وجہ سرمایہ کاری کا مصنوعی ذہانت کے شعبے کی طرف منتقل ہونا ہے، نہ کہ بٹ کوائن پر اعتماد کا خاتمہ۔ مارکیٹ میں تقریباً $200 ارب کی کمی کے باوجود، ماہرین نے اس صورتحال کو عارضی قرار دیا ہے۔ کوائن ڈیسک کی رپورٹ کے مطابق، کوانٹم اکنامکس کے ماٹی گرینسپن اور مائیکروسٹریٹیجی کے چیئرمین مائیکل سیلور نے امریکی اسپات بٹ کوائن ای ٹی ایف سے فنڈز کے نکلنے اور مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری کی بڑھوتری کی طرف توجہ دلائی ہے۔ اس کے علاوہ، جیمیسن لوپ نے روایتی مالیاتی شعبے میں مصنوعی ذہانت کے عروج کا ذکر کیا ہے۔ کچھ ناقدین نے بلند شرح سود اور مائیکروسٹریٹیجی کی جانب سے بٹ کوائن کی فروخت کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ اس صورتحال کے باوجود، اسٹرائیک کے سی ای او جیک مالرز نے مارکیٹ میں کمی کو خریداری کا موقع قرار دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ موجودہ مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ ہے، لیکن بٹ کوائن کی طویل مدتی اہمیت برقرار رہے گی۔ سرمایہ کاروں کو محتاط رہتے ہوئے مارکیٹ کی تبدیلیوں پر نظر رکھنی چاہیے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance