بین الاقوامی مالیاتی مارکیٹوں میں امریکی حملوں کے چوتھے دور کے بعد سونا، تیل، اسٹاکس اور بانڈز میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔ تاہم، بٹ کوائن کی قیمت تقریباً 63,800 ڈالر کے قریب مستحکم رہی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کرپٹو کرنسی نے جنگ کے باعث پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال میں نسبتاً استحکام دکھایا ہے۔ اس صورتحال نے سرمایہ کاروں کو مختلف اثاثہ جات میں توازن تلاش کرنے پر مجبور کیا ہے، جہاں روایتی مارکیٹیں جنگ کے اثرات سے متاثر ہو رہی ہیں، وہاں بٹ کوائن نے اپنی قیمت میں کم تبدیلی دیکھی۔ اس استحکام کی وجہ سے کرپٹو مارکیٹ میں دلچسپی بڑھ سکتی ہے، خاص طور پر ان سرمایہ کاروں کے لیے جو جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے دوران متبادل سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کر رہے ہیں۔ مستقبل میں، اگر جنگ کی صورتحال مزید بگڑتی ہے تو ممکن ہے کہ کرپٹو کرنسیوں کی مانگ میں اضافہ ہو، لیکن اس کے ساتھ ہی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ بھی بڑھ سکتا ہے۔ سرمایہ کاروں کو چاہیے کہ وہ اپنی سرمایہ کاری میں محتاط رہیں اور عالمی سیاسی حالات پر نظر رکھیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk