بٹ کوائن کے متنازع BIP-110 سافٹ فورک کے ممکنہ فعال ہونے کے موقع پر صارفین کو خبردار کیا گیا ہے کہ اقلیتی چین کے سکے فروخت کرنے سے ان کے حقیقی بٹ کوائن بھی خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔ خدشہ ہے کہ نئی چین پر دستخط شدہ لین دین کو اصل بٹ کوائن نیٹ ورک پر دوبارہ نشر کیا جا سکتا ہے، جسے ری پلے اٹیک کہا جاتا ہے۔
BIP-110 کا مقصد بٹ کوائن بلاکس میں غیر مالیاتی ڈیٹا، بشمول بعض بڑے ڈیٹا ریکارڈز، کو عارضی طور پر محدود کرنا ہے۔ تاہم اس تجویز کو مائنرز کی بہت کم حمایت حاصل ہے، اس لیے اس کے نفاذ سے نیٹ ورک کا ایک چھوٹا حصہ الگ چین بنا سکتا ہے، جبکہ زیادہ تر مائنرز اور صارفین اصل چین پر رہیں گے۔
ممکنہ تقسیم کے دوران ایک ہی نجی کلید سے متعلق لین دین دونوں چینز پر قابل قبول ہو سکتے ہیں۔ اس صورت میں کسی ایک چین کے سکے منتقل یا فروخت کرنے سے دوسری چین کے اثاثے بھی غیر ارادی طور پر خرچ ہو سکتے ہیں۔ ڈویلپرز نے مشورہ دیا ہے کہ چینز کے درمیان واضح تفریق اور مؤثر ری پلے تحفظ قائم ہونے تک لین دین روک دینا نسبتاً محفوظ اقدام ہو سکتا ہے۔ ایکسچینجز اور والیٹ فراہم کنندگان سے بھی توقع ہے کہ وہ عارضی طور پر منتقلی محدود کریں اور صارفین کو واضح ہدایات دیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk