حال ہی میں آرکھم انٹیلی جنس کی جانب سے جاری کردہ ڈیٹا میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ سال کے دوران بھوٹان سے ایک ارب ڈالر سے زائد بٹ کوائن کی منتقلی ہوئی ہے، جو مختلف ایکسچینجز اور تجارتی اداروں کو بھیجی گئی۔ تاہم، بھوٹان کی حکومت نے اس دعوے کی سختی سے تردید کی ہے اور کہا ہے کہ انہوں نے کوئی بٹ کوائن فروخت نہیں کی۔ اس تنازعے نے کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں تشویش پیدا کر دی ہے کیونکہ یہ رقم مارکیٹ پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ اگر واقعی یہ فروخت ہوئی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ بھوٹان کے بٹ کوائن ہولڈرز نے بڑے پیمانے پر اپنی پوزیشنز میں تبدیلی کی ہے، جو قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا باعث بن سکتا ہے۔ دوسری جانب، حکومت کی تردید سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ معلومات میں غلط فہمی یا غیر مصدقہ رپورٹس شامل ہو سکتی ہیں۔ مستقبل میں اس معاملے کی مزید تحقیقات اور شفافیت کی ضرورت ہوگی تاکہ مارکیٹ میں اعتماد بحال کیا جا سکے اور سرمایہ کاروں کو درست معلومات فراہم کی جا سکیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk