بینک آف جاپان کی جانب سے شرح سود میں تیزی سے اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے جس سے قرض لینے کی لاگت دو فیصد سے تجاوز کر سکتی ہے۔ سابق بینک آف جاپان کے ایک اہلکار نے اس حوالے سے خبردار کیا ہے کہ یہ اقدام یین کی قدر میں کمی کے تناظر میں لیا جا رہا ہے، جو امریکی ڈالر کے مقابلے میں مسلسل گرتی جا رہی ہے۔ شرح سود میں اضافہ جاپان کی معیشت پر نمایاں اثرات مرتب کر سکتا ہے، خاص طور پر کاروباری اداروں اور صارفین کے لیے قرضوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔ اس سے سرمایہ کاری کے رجحانات اور مالیاتی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ متوقع ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر شرح سود میں اضافہ جاری رہا تو اس سے جاپان کی معیشت میں مہنگائی اور مالیاتی استحکام کے مسائل جنم لے سکتے ہیں۔ اس صورتحال میں مرکزی بینک کی پالیسیوں پر نظر رکھنا ضروری ہو گا تاکہ ممکنہ خطرات کو کم کیا جا سکے اور معیشت کو مستحکم رکھا جا سکے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk