ویسٹ پیک بینک کارپوریشن نے اپنے عملے کو مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کے استعمال میں کفایت شعاری اختیار کرنے کی ہدایت دی ہے تاکہ لاگتوں کو بہتر طریقے سے کنٹرول کیا جا سکے۔ بینک نے اپنی کمپنی کے اندر مختلف AI ٹوکنز کی نگرانی شروع کر دی ہے تاکہ مہنگے ماڈلز کے بجائے سادہ اور کم خرچ ماڈلز کو ترجیح دی جا سکے۔ اس اقدام کا مقصد مصنوعی ذہانت کے استعمال سے جڑی لاگتوں کو کم کرنا اور مالی وسائل کو مؤثر انداز میں استعمال کرنا ہے۔ اس سے بینک کی کارکردگی پر مثبت اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے اور صارفین کو بہتر خدمات فراہم کی جا سکیں گی۔ مستقبل میں، دیگر مالی ادارے بھی اس قسم کی حکمت عملی اپنانے کا رجحان بڑھ سکتا ہے تاکہ AI کے استعمال سے متعلق اخراجات کو قابو میں رکھا جا سکے۔ اس طرح کے اقدامات مارکیٹ میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کے تناظر میں اہم سمجھے جا رہے ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance