مصنوعی ذہانت کے نئے ماڈلز نے کرپٹو کرنسی کی سیکورٹی کے نظام کو حملہ آوروں کے حق میں مائل کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں اپریل 2026 میں ڈیفائی پلیٹ فارمز سے 634 ملین ڈالر سے زائد کی چوری ہوئی۔ امیونیفی کے سی ای او مچل امیڈور نے بتایا کہ کرپٹو سیکورٹی ٹیموں کو ایسے ماڈلز کے مقابلے میں مضبوط کوڈ بیس تیار کرنے کے لیے تین سے چار سال درکار ہوں گے تاکہ وہ حملوں کو روک سکیں۔ ایک علیحدہ واقعے میں، لیئر زیرو نے اطلاع دی کہ کیلپ ڈی اے او کے پل میں ایک ہی تصدیقی راستہ استعمال کیا گیا تھا، جس کی وجہ سے ایک حملہ آور نے تقریباً 116,500 rsETH منتقل کر لیے۔ اس صورتحال نے کرپٹو سیکورٹی میں موجود خامیوں کو اجاگر کیا ہے اور صارفین کے لیے خطرات بڑھا دیے ہیں۔ مستقبل میں، سیکورٹی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے جدید تکنیکی اقدامات کی ضرورت ہوگی تاکہ صارفین کے فنڈز کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance