مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے اثرات کے پیش نظر تعلیمی ادارے تبدیلی کے لیے تیار نہیں

مانچسٹر یونیورسٹی کے ایک محقق نے خبردار کیا ہے کہ تعلیمی ادارے مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے اثرات کے پیش نظر مناسب تیاری نہیں کر رہے ہیں۔ محقق کے مطابق، اسکولوں کو صرف AI کے ذریعے نقل و حمل کے خدشات تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ انہیں ایسے طلباء تیار کرنے چاہئیں جو خودکار نظاموں سے متاثر ہونے والے مستقبل کے کام کی جگہوں کے لیے تیار ہوں۔ یہ تبدیلی تعلیمی نصاب میں بنیادی اصلاحات کی ضرورت کو ظاہر کرتی ہے تاکہ طلباء کو نئی ٹیکنالوجیز کے ساتھ مؤثر طریقے سے کام کرنے کے قابل بنایا جا سکے۔ اس پیش رفت کے فوری اثرات میں کام کی جگہوں پر خودکار نظاموں کا بڑھتا ہوا استعمال اور اس کے ساتھ طلباء کی مہارتوں میں فرق شامل ہے۔ مستقبل میں، اگر تعلیمی ادارے اس تبدیلی کے مطابق خود کو ڈھالنے میں ناکام رہے تو نوجوانوں کو ملازمت کے مواقع میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس لیے تعلیمی پالیسی سازوں اور اداروں کو چاہیے کہ وہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیں اور طلباء کو مستقبل کی ملازمتوں کے لیے بہتر طور پر تیار کریں۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt

ٹیگز:
شئیر کیجیے: