بلاک اسٹریم کے سی ای او ایڈم بیک نے بٹ کوائن کی کرپٹوگرافک سیکیورٹی پر کوانٹم کمپیوٹنگ کے فوری خطرے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ خطرہ دہائیوں بعد ہی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ کوانٹم تحقیق ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور موجودہ ہارڈویئر کی صلاحیتیں محدود ہیں، جو حقیقی دنیا کی انکرپشن کو توڑنے کے لیے ناکافی ہیں۔ ایڈم بیک نے واضح کیا کہ کوانٹم کمپیوٹرز کے ذریعے بٹ کوائن کی سیکیورٹی کو نقصان پہنچانے کا امکان ابھی بہت دور ہے، تاہم انہوں نے اس حوالے سے مکمل یقین دہانی سے گریز کیا۔ انہوں نے بٹ کوائن کمیونٹی کو مشورہ دیا کہ وہ اب سے تدریجی طور پر پوسٹ کوانٹم سیکیورٹی کی طرف منتقلی کا آغاز کرے تاکہ صارفین اور ادارے بغیر کسی رکاوٹ کے اپنے کیز اور انفراسٹرکچر کو اپ ڈیٹ کر سکیں۔ بلاک اسٹریم کی تحقیقاتی ٹیم اس حوالے سے کام کر رہی ہے اور لیکوئڈ نیٹ ورک میں پہلے ہی کچھ تجرباتی اقدامات کیے جا چکے ہیں۔ اس کے علاوہ، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسٹینڈرڈز اینڈ ٹیکنالوجی کی جانب سے پوسٹ کوانٹم کرپٹوگرافی کے معیارات کی منظوری کو اس میدان میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا ہے۔ ایڈم بیک نے مصنوعی ذہانت کے بٹ کوائن پر کسی خطرے کو بھی مسترد کیا اور اسے محض ایک پیداواری آلہ قرار دیا۔ انہوں نے بٹ کوائن کو ڈیجیٹل گولڈ کے طور پر بیان کیا جو قومی مالیاتی نظاموں کے ساتھ بقائے باہمی رکھتا ہے، اور مختلف ممالک میں اس کی بڑھتی ہوئی قبولیت کی نشاندہی کی۔ یہ بیان بٹ کوائن اور کوانٹم کمپیوٹنگ کے مستقبل کے حوالے سے مارکیٹ میں اعتدال پسند ردعمل کا باعث بن سکتا ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: bitcoinmagazine