وینچر کیپیٹل فرم a16z کے مطابق کرپٹو کارڈز کے ذریعے ماہانہ صارفین کے اخراجات 750 ملین ڈالر سے تجاوز کر گئے ہیں، جو ڈیجیٹل اثاثوں کو روزمرہ ادائیگیوں میں استعمال کرنے کے بڑھتے ہوئے رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔ کمپنی نے یہ بات ایکس پر شیئر کی۔
ان کارڈز کے ذریعے صارفین اسٹیبل کوائنز، جیسے امریکی ڈالر سے منسلک ڈیجیٹل ٹوکنز، ان مقامات پر خرچ کر سکتے ہیں جہاں روایتی بینک کارڈز قبول کیے جاتے ہیں۔ خریداری کے وقت اسٹیبل کوائن خودکار طور پر مقامی کرنسی میں تبدیل ہو جاتا ہے، جس سے صارف کو الگ سے کرپٹو فروخت کرکے رقم بینک اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کی ضرورت کم ہوتی ہے۔
مارکیٹ کے لیے یہ پیش رفت کرپٹو ادائیگیوں کو قیاس آرائی سے آگے بڑھا کر عملی استعمال کی جانب لے جانے کی علامت ہے۔ تاہم، اس شعبے کو کرنسی تبدیلی کی فیس، ریگولیٹری تقاضوں، صارف تحفظ اور اسٹیبل کوائنز کے ذخائر سے متعلق خطرات کا سامنا رہے گا۔ آئندہ توجہ کارڈ جاری کرنے والی کمپنیوں، ادائیگی نیٹ ورکس اور مالیاتی اداروں کی جانب سے مزید شراکت داری اور وسیع تر قبولیت پر مرکوز ہوگی۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance