ٹوکنائزڈ ڈپازٹس بینکوں کی قرض دینے کی صلاحیت میں 700 ارب ڈالر تک کمی لا سکتے ہیں: ڈلاس فیڈ

امریکی بینکنگ نظام میں ٹوکنائزڈ ڈپازٹس کے بڑے پیمانے پر استعمال سے بینکوں کی طویل مدتی قرض دینے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔ ڈلاس فیڈ کے محققین کے مطابق، بلاک چین پر مبنی یہ ڈپازٹس رقوم کی منتقلی کو تیز کر سکتے ہیں، مگر انہیں روایتی ڈپازٹس کے مقابلے میں زیادہ شرحِ سود حساس بنا سکتے ہیں۔

تحقیق میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ ڈپازٹس کی شرحِ سود حساسیت میں 10 فیصد اضافہ بینکوں کی مدت سے متعلق خطرہ لینے کی گنجائش میں تقریباً 700 ارب ڈالر، دس سالہ مساوی بنیاد پر، کمی کا سبب بن سکتا ہے۔ یہ رقم براہِ راست قرضوں میں کمی نہیں بلکہ بینکوں کی طویل مدتی اثاثوں، خصوصاً قرضوں، کو ڈپازٹس سے فنڈ کرنے کی صلاحیت کی پیمائش ہے۔

محققین کے مطابق، ایسی صورت میں بینک زیادہ مائع اور نسبتاً محفوظ اثاثوں، جیسے امریکی ٹریژری سیکیورٹیز، کی جانب منتقل ہو سکتے ہیں یا قرضوں کے لیے مدتِ معینہ والے قرض اور دیگر مہنگے ذرائع پر انحصار بڑھا سکتے ہیں۔ اس سے گھرانوں اور کاروباری اداروں کے لیے قرض کی لاگت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

ٹوکنائزڈ ڈپازٹس ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں، اس لیے ان کے حتمی اثرات ڈیزائن، ضابطہ کاری، بینکوں کے باہمی تصفیے اور مالی دباؤ کے دوران رقوم کے تیز اخراج سے وابستہ خطرات پر منحصر ہوں گے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt