ڈلاس فیڈ کے ماہرین اقتصادیات نے خبردار کیا ہے کہ ٹوکنائزڈ ڈپازٹس کے بڑے پیمانے پر استعمال سے امریکی بینکوں کی طویل مدتی قرض دینے اور شرحِ سود کا خطرہ برداشت کرنے کی صلاحیت تقریباً 700 ارب ڈالر کم ہو سکتی ہے۔ یہ خدشہ اس صورت میں پیدا ہوگا جب ڈپازٹ رکھنے والے شرحِ منافع میں معمولی فرق پر بھی تیزی سے بینک تبدیل کرنے لگیں۔
ڈلاس فیڈ کے مطابق پروگرام ایبل ڈپازٹس اور مصنوعی ذہانت پر مبنی خودکار ایجنٹس صارفین کو براہِ راست کارروائی کے بغیر زیادہ منافع دینے والے بینک میں رقم منتقل کرنے کے قابل بنا سکتے ہیں۔ اس سے بینکوں کے لیے ڈپازٹس کا حصول مہنگا ہوگا، شرحِ منافع بڑھانے کا دباؤ پیدا ہوگا اور قرضوں کی لاگت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
ٹوکنائزڈ ڈپازٹس روایتی بینک ڈپازٹس ہی ہوتے ہیں، مگر بلاک چین ٹیکنالوجی کے ذریعے تیز اور پروگرام ایبل ادائیگیاں ممکن بناتے ہیں۔ فی الحال ان کا استعمال ابتدائی مرحلے میں ہے، اس لیے حقیقی اثرات غیر یقینی ہیں۔ بینک ممکنہ طور پر مدتی قرض، زیادہ مائع اثاثوں اور نئے قیمتوں کے ماڈلز پر انحصار بڑھا سکتے ہیں، جبکہ ریگولیٹرز کو لیکویڈیٹی، صارفین کے تحفظ اور مالی استحکام کے خطرات کا جائزہ لینا ہوگا۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk