امریکا نے ایران کی ڈیجیٹل اثاثہ معیشت اور پابندیوں سے بچنے کے لیے استعمال ہونے والے کرپٹو نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی تیز کر دی ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ نے 24 اگست 2026 کو اعلان کیا کہ ایران کا ڈیجیٹل اثاثہ شعبہ اب اسی وسیع پابندیوں کے دائرے میں شامل ہوگا جو پہلے تیل، بینکاری اور دھاتوں کی صنعتوں پر لاگو تھا۔ یہ اقدام ’’آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ‘‘ کا حصہ ہے، جس کے ذریعے واشنگٹن ایران کے مالی روابط اور بیرونِ ملک سہولت کاروں کو محدود کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ حکام کے مطابق ایرانی حکومت کرپٹو کرنسی کو پابندیوں سے بچنے، مالی لین دین چھپانے اور اسلامی انقلابی گارڈز سمیت ریاستی وابستہ اداروں سے منسلک سرگرمیوں کے لیے استعمال کر رہی ہے۔
نئی پالیسی کے تحت امریکی دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول، المعروف اوفک، ایسے غیر ملکی افراد اور اداروں کو بھی پابندیوں کی زد میں لا سکتا ہے جو ایران کے ڈیجیٹل اثاثہ شعبے میں کام کرتے یا اسے دانستہ سہولت فراہم کرتے ہوں۔ اس دائرے میں عالمی کرپٹو ایکسچینجز، اوور دی کاؤنٹر ڈیسک، ادائیگی کے پلیٹ فارم، والٹ سروسز اور بلاک چین انفراسٹرکچر فراہم کرنے والی کمپنیاں شامل ہو سکتی ہیں۔ امریکی حکام نے ایرانی وزارتِ انٹیلی جنس و سکیورٹی سے منسلک سائبر عناصر کے خلاف بھی کارروائی کی اور ان سے وابستہ بٹ کوائن سمیت دیگر کرپٹو پتوں کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا۔ اس فیصلے سے عالمی ڈیجیٹل اثاثہ کمپنیوں کے لیے پابندیوں کی جانچ، صارفین کی شناخت اور لین دین کی نگرانی کے تقاضے مزید سخت ہونے کا امکان ہے۔
مارکیٹ کے لیے اس پیش رفت کی اہمیت صرف ایران تک محدود نہیں۔ اگر عالمی پلیٹ فارم امریکی مالیاتی نظام تک رسائی برقرار رکھنا چاہتے ہیں تو انہیں ایرانی صارفین، واسطہ کاروں اور مشتبہ والٹس سے متعلق کاروبار کم یا منجمد کرنا پڑ سکتا ہے، جس سے کرپٹو مارکیٹ میں لیکویڈیٹی کے کچھ حصے اور سرحد پار ادائیگیوں کے راستے متاثر ہو سکتے ہیں۔ ٹیتھر جیسے اسٹیبل کوائنز جاری کرنے والی کمپنیاں مخصوص پتوں کے اثاثے منجمد کر سکتی ہیں، جبکہ بٹ کوائن کا غیرمرکزی ڈھانچہ اسے کسی ایک ادارے کے ذریعے مکمل طور پر منجمد ہونے سے محفوظ رکھتا ہے۔ اس کے باوجود پابندیوں کا خطرہ ایکسچینجز، مارکیٹ ساز اداروں اور سرمایہ کاروں کے جذبات پر دباؤ ڈال سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب جغرافیائی سیاسی کشیدگی، ثانوی پابندیوں اور ممکنہ ادارہ جاتی سرمائے کے اخراج سے عالمی رسک مارکیٹس پہلے ہی حساس ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: bitcoinmagazine