بلند بانڈ ییلڈز اور مہنگے تیل کے دباؤ میں بٹ کوائن 64 ہزار ڈالر کے قریب برقرار

بٹ کوائن منگل، 18 اگست 2026 کو تقریباً 64 ہزار ڈالر کی سطح پر برقرار رہا، اگرچہ عالمی مالیاتی منڈیوں میں خطرے والے اثاثوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ دستیاب مارکیٹ اعداد و شمار کے مطابق بٹ کوائن تقریباً 64,100 ڈالر کے قریب ٹریڈ کر رہا تھا اور دن کے دوران معمولی اضافے کے باوجود اپنی محدود حد میں رہا۔ ایتھر بھی تقریباً 1,893 ڈالر کے قریب مستحکم رہا، جبکہ دیگر بڑی کرپٹو کرنسیوں میں نمایاں سمت نظر نہیں آئی۔ بٹ کوائن کا یہ استحکام اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی اسٹاک فیوچرز میں کمزوری اور عالمی سرمایہ کاروں میں محتاط رویہ نمایاں ہے۔

مارکیٹ پر بنیادی دباؤ امریکی طویل مدتی ٹریژری بانڈز کی ییلڈ اور خام تیل کی قیمتوں سے پیدا ہو رہا ہے۔ 30 سالہ امریکی ٹریژری ییلڈ بڑھ کر 5.33 فیصد تک پہنچ گئی، جو 2007 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ اس اضافے سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرمایہ کار حکومتوں کے بڑھتے ہوئے قرض، مہنگائی کے خدشات اور طویل عرصے تک بلند شرح سود کے خطرے کے عوض زیادہ منافع طلب کر رہے ہیں۔ اسی دوران برینٹ خام تیل کی قیمت 91 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، کیونکہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ مہنگا تیل افراطِ زر کو دوبارہ بڑھا سکتا ہے، جس کے نتیجے میں مرکزی بینک شرح سود میں نرمی مؤخر کر سکتے ہیں۔ بلند ییلڈز اور مہنگی توانائی عموماً اسٹاکس اور کرپٹو جیسے خطرے والے اثاثوں سے لیکویڈیٹی نکالنے کا باعث بنتی ہیں۔

اس پس منظر میں بٹ کوائن کا 64 ہزار ڈالر کے قریب قائم رہنا مارکیٹ کے لیے اہم اشارہ ہے، لیکن اسے مکمل بحالی یا پائیدار تیزی کی علامت قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ اگر ادارہ جاتی سرمایہ کاری اور اسپاٹ بٹ کوائن ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز کی طلب برقرار رہی تو یہ طلب میکرو دباؤ کو جزوی طور پر جذب کر سکتی ہے۔ تاہم، تیل کی قیمت 100 ڈالر کے قریب پہنچتی ہے یا طویل مدتی ییلڈز مزید بڑھتی ہیں تو سرمایہ کاروں کا خطرے سے گریز، مارکیٹ کی لیکویڈیٹی اور کرپٹو میں نئی خریداری متاثر ہو سکتی ہے۔ بٹ کوائن کے لیے 64,500 ڈالر سے اوپر مستحکم پیش رفت خریداروں کی طاقت کا اشارہ دے گی، جبکہ موجودہ سطح سے نیچے کمزوری وسیع تر خطرے سے گریز کے رجحان کو نمایاں کر سکتی ہے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk

شئیر کیجیے: