بٹ کوائن 63,500 ڈالر کے قریب مستحکم، اسپاٹ ای ٹی ایف میں پانچ روزہ خریداری سے مارکیٹ کے بہاؤ کا رخ بدل گیا

بٹ کوائن پیر، 17 اگست 2026 کو تقریباً 63,500 ڈالر کے قریب محدود دائرے میں کاروبار کرتا رہا، تاہم قیمت میں نمایاں حرکت نہ ہونے کے باوجود اس کے پیچھے موجود سرمایہ کاری کے بہاؤ نے مارکیٹ کے لیے اہم اشارہ دیا ہے۔ اے آر پی ڈیجیٹل کے یوسف فخرو کے مطابق امریکی اسپاٹ بٹ کوائن ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز نے پانچ دن کے دوران 14,000 سے زیادہ بٹ کوائن حاصل کیے، جبکہ تیسری سہ ماہی کے مجموعی بہاؤ بھی دوبارہ مثبت ہو گئے ہیں۔ اس سرگرمی سے ظاہر ہوتا ہے کہ حالیہ دباؤ کے بعد ادارہ جاتی سرمایہ کار دوبارہ کرپٹو مارکیٹ میں پوزیشن بنانے پر غور کر رہے ہیں، اگرچہ اس کا فوری اثر قیمت میں مکمل طور پر نظر نہیں آیا۔

مارکیٹ کا یہ رخ اس لیے زیادہ اہم ہے کہ بٹ کوائن کی دستیاب لیکویڈیٹی کئی برسوں کے مقابلے میں کمزور اور فروخت کے دباؤ سے خاصی متاثر رہی ہے۔ ایسے ماحول میں اگر اسپاٹ ای ٹی ایف کے ذریعے مسلسل نئی طلب داخل ہوتی ہے تو محدود دستیاب رسد قیمت میں نسبتاً تیز تبدیلی کا باعث بن سکتی ہے۔ اس کے برعکس، اگر یہ خریداری مختصر مدت کی ہو یا میکرو اقتصادی خدشات، شرح سود کی توقعات اور خطرناک اثاثوں سے متعلق محتاط رویہ برقرار رہے تو بٹ کوائن کی قیمت کچھ عرصہ مزید دباؤ یا استحکام کا شکار رہ سکتی ہے۔

اسپاٹ ای ٹی ایف کے بہاؤ اب بٹ کوائن کے لیے ایک اہم جذباتی اور ادارہ جاتی پیمانہ بن چکے ہیں، کیونکہ ان کے ذریعے روایتی مالیاتی نظام سے وابستہ سرمایہ کار براہِ راست ڈیجیٹل اثاثے کی قیمت میں شرکت حاصل کرتے ہیں۔ مثبت بہاؤ مارکیٹ کے اعتماد، ادارہ جاتی مانگ اور ممکنہ طور پر بہتر لیکویڈیٹی کی علامت سمجھا جا سکتا ہے، جبکہ مسلسل اخراج قیمت پر اضافی دباؤ ڈال سکتے ہیں۔ موجودہ صورت حال میں بٹ کوائن کا 63,500 ڈالر کے قریب مستحکم رہنا اور ساتھ ہی ای ٹی ایف مانگ کا بحال ہونا ایک ایسے مرحلے کی نشاندہی کرتا ہے جہاں قیمت سے زیادہ سرمایہ کے رخ پر توجہ مرکوز ہے۔ آنے والے دنوں میں بہاؤ کی پائیداری، امریکی مالیاتی پالیسی کی توقعات اور وسیع تر خطرے کے رجحان اس بات کا تعین کریں گے کہ یہ تبدیلی مستقل بحالی بنتی ہے یا عارضی خریداری تک محدود رہتی ہے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk

شئیر کیجیے: