امریکہ میں صارف قیمتوں کے اشاریے کے مطابق افراطِ زر کی رفتار توقعات کے عین مطابق سست ہو کر 3.4 فیصد پر آ گئی۔ بنیادی افراطِ زر، جس میں خوراک اور توانائی کی قیمتیں شامل نہیں ہوتیں، بھی ماہرینِ معیشت کے اندازوں کے مطابق رہا، جس سے قیمتوں کے دباؤ میں کسی بڑے اضافے کے خدشات کم ہوئے ہیں۔
رپورٹ کے بعد بٹ کوائن تقریباً 64 ہزار ڈالر کی سطح کے قریب برقرار رہا، جبکہ امریکی ٹریژری بانڈز کی پیداوار میں کمی دیکھی گئی۔ کم پیداوار عموماً مالی حالات میں نرمی اور خطرے والے اثاثوں کے لیے نسبتاً سازگار ماحول کی علامت سمجھی جاتی ہے۔
تازہ اعدادوشمار سے فیڈرل ریزرو کی آئندہ شرحِ سود پالیسی کے بارے میں فوری طور پر کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا، تاہم مارکیٹ کی توجہ اب بنیادی افراطِ زر، روزگار کے اعدادوشمار اور مرکزی بینک کے آئندہ بیانات پر رہے گی۔ اگر قیمتوں میں کمی کا رجحان برقرار رہا تو شرحِ سود میں نرمی کی توقعات مضبوط ہو سکتی ہیں، جبکہ دوبارہ تیزی بٹ کوائن اور دیگر حساس اثاثوں پر دباؤ ڈال سکتی ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk