گری اسکیل کے سربراہِ تحقیق زیک پینڈل نے کہا ہے کہ امریکا میں ڈیجیٹل اثاثوں کے لیے جامع مارکیٹ اسٹرکچر قانون، کلیئرٹی ایکٹ، رواں سال منظور نہ ہونے کے باوجود کرپٹو صنعت کی پیش رفت جاری رہ سکتی ہے۔ ان کے مطابق یہ شعبہ تقریباً 17 برس سے جامع وفاقی قواعد کے بغیر کام کر رہا ہے۔
پینڈل نے کہا کہ امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن اور دیگر متعلقہ ادارے ضابطہ سازی کے ذریعے موجودہ خلا کو جزوی طور پر پُر کر سکتے ہیں، جس میں ٹوکنائزڈ سیکیورٹیز کے لیے رہنما اصول بھی شامل ہیں۔ حالیہ عرصے میں ایس ای سی نے کرپٹو اثاثوں پر موجودہ سیکیورٹیز قوانین کے اطلاق سے متعلق وضاحتیں جاری کی ہیں۔
ان کے خیال میں قانون کی ناکامی سے بڑے بلاک چین نیٹ ورکس، قدر محفوظ رکھنے کے لیے بٹ کوائن کی طلب یا اسٹیبل کوائن ادائیگیوں پر فوری بڑا اثر نہیں پڑے گا۔ تاہم، واضح امریکی قواعد کی عدم موجودگی سرمایہ کاری اور ڈویلپر سرگرمی کو بیرونِ ملک منتقل کر سکتی ہے۔ کلیئرٹی ایکٹ پر کانگریس میں پیش رفت جاری ہے، مگر حتمی منظوری سیاسی اختلافات اور قانون سازی کے وقت پر منحصر رہے گی۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance