بٹ کوائن انفراسٹرکچر پر ایک اور سائبر حملہ، ایل این ڈی سرورز سے لائٹننگ فنڈز منتقل کیے گئے

بٹ کوائن کے ادائیگی انفراسٹرکچر کو ایک اور سنگین سکیورٹی حملے کا سامنا ہے، جس میں حملہ آوروں نے ایل این ڈی استعمال کرنے والے بعض لائٹننگ نیٹ ورک سرورز کی ایسی اسناد حاصل کر لیں جو متعلقہ والٹس کو کنٹرول کرنے اور رقوم منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ بٹ کوائن ادائیگیوں کے لیے اوپن سورس پلیٹ فارم بی ٹی سی پے نے ایل این ڈی چلانے والے صارفین کو فوری طور پر سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کرنے یا اپ ڈیٹ ممکن نہ ہونے کی صورت میں سرورز کو نیٹ ورک سے الگ کر کے بند کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اس انتباہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطرہ محض نظری یا محدود تکنیکی خامی تک نہیں، بلکہ فعال مالی نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔

ایل این ڈی لائٹننگ نیٹ ورک کا ایک اہم سافٹ ویئر نفاذ ہے، جو ادائیگی چینلز، بٹ کوائن والٹس اور لین دین کی ترسیل کو منظم کرتا ہے۔ ایسے سرورز عموماً تاجروں، ادائیگی فراہم کرنے والوں اور دیگر کاروباری اداروں کے لیے مسلسل آن لائن رہتے ہیں، اس لیے ان کی اسناد چوری ہونے کی صورت میں حملہ آور والٹ بیلنس، کھلے چینلز یا ادائیگی کے عمل تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ بی ٹی سی پے کے موجودہ حفاظتی رہنما اصول بھی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ایل این ڈی والٹ کے بیج، چینل بیک اپ اور سرور ماحول کو محفوظ رکھنا ضروری ہے، کیونکہ کمپیوٹنگ ماحول یا کلیدی معلومات کے متاثر ہونے سے رقوم کا مستقل نقصان ہو سکتا ہے۔

یہ واقعہ وسیع تر کرپٹو مارکیٹ کے لیے اس لیے اہم ہے کہ لائٹننگ نیٹ ورک کو بٹ کوائن کی تیز رفتار اور کم لاگت ادائیگیوں کے بنیادی ڈھانچے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اگر مزید سرورز متاثر ہوئے تو تاجروں کی لیکویڈیٹی، ادائیگیوں کی دستیابی اور ادارہ جاتی اعتماد پر دباؤ بڑھ سکتا ہے، جبکہ صارفین عارضی طور پر لائٹننگ سروسز بند کرنے یا رقوم کو آن چین والٹس میں منتقل کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔ فوری طور پر متاثرہ آپریٹرز کے لیے ترجیح اپ ڈیٹ، سرور کو الگ کرنا، رسائی کی اسناد تبدیل کرنا، بیک اپ کی جانچ اور غیر معمولی لین دین کا جائزہ لینا ہے۔ حملے کے مکمل دائرہ کار اور چوری شدہ رقوم کی مقدار کی آزادانہ تصدیق ابھی سامنے نہیں آئی، تاہم فعال استحصال کا خدشہ مارکیٹ کے سکیورٹی اور آپریشنل رسک کو نمایاں طور پر بڑھاتا ہے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk

شئیر کیجیے: