چین کے متعدد کمرشل بینکوں نے کارپوریٹ صارفین کے لیے ایسے قرضے جاری کرنا شروع کر دیے ہیں جن کی قیمت депозитری مالیاتی اداروں کی بینکنگ ریپو شرح، یعنی ڈی آر، سے منسلک ہے۔ یہ اقدام قرضوں کے لیے متبادل اور زیادہ متنوع شرحِ سود کے حوالہ جاتی نظام کی جانب اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق صنعتی و تجارتی بینک آف چائنا، چائنا مرچنٹس بینک اور شنگھائی پڈونگ ڈویلپمنٹ بینک نے جنوبی صوبے ہائی نان میں ابتدائی قرضے متعارف کرائے ہیں۔ اس سے پہلے چین میں کارپوریٹ قرضوں کی قیمت بندی میں لون پرائم ریٹ کو مرکزی benchmark حاصل تھا۔
ڈی آر شرح بینکوں کے درمیان قلیل مدتی فنڈنگ اور مارکیٹ کی liquidity میں تبدیلیوں کو نسبتاً تیزی سے ظاہر کرتی ہے۔ بینکوں اور قرض لینے والی کمپنیوں کو اس بنیاد پر اپنی مالی ضروریات اور آئندہ شرحوں کے بارے میں توقعات کے مطابق شرائط طے کرنے میں زیادہ لچک مل سکتی ہے۔
ماہرین کے نزدیک اس تجربے سے مالیاتی پالیسی کی حقیقی معیشت تک ترسیل بہتر ہو سکتی ہے، تاہم وسیع پیمانے پر نفاذ سے قبل شرحوں کے اتار چڑھاؤ، قرضوں کی پیچیدہ قیمت بندی اور بینکوں کے منافع پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لیا جائے گا۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance