کلیرٹی ایکٹ کی قانون سازی میں تاخیر، امریکی کرپٹو صنعت کی نظریں متبادل راستوں پر

امریکی سینیٹ کے ایوانِ بالا میں ڈیجیٹل اثاثوں کے لیے جامع قواعد وضع کرنے والا کلیرٹی ایکٹ موسمِ گرما کی تعطیلات سے قبل اہم قانون سازی کی مدت میں پیش رفت نہ کر سکا۔ 7 اگست 2026 کی آخری مؤثر مہلت گزرنے کے بعد اس بل کی رواں سال منظوری کے امکانات کم ہو گئے ہیں، اگرچہ اسے مکمل طور پر ایجنڈے سے خارج نہیں کیا گیا۔

کلیرٹی ایکٹ کا مقصد کرپٹو اثاثوں کی نگرانی، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن اور کموڈیٹی فیوچرز ٹریڈنگ کمیشن کے دائرۂ اختیار، اور مارکیٹ میں کام کرنے والی کمپنیوں کے لیے واضح قانونی ذمہ داریاں متعین کرنا ہے۔ تاہم، دونوں جماعتوں کے ارکان کے درمیان اخلاقی تحفظات، غیر قانونی مالی سرگرمیوں کی روک تھام، صارفین کے تحفظ اور بعض اسٹیبل کوائن مراعات پر اختلافات برقرار ہیں۔

تاخیر سے صنعت کو فوری جامع قانونی وضاحت نہیں ملے گی، جبکہ سرمایہ کاری، نئی مصنوعات اور امریکا میں کاروباری توسیع کے فیصلے غیر یقینی ماحول میں رہ سکتے ہیں۔ اب توجہ محدود قانون سازی، وفاقی اداروں کی رہنمائی اور آئندہ کانگریسی اجلاس میں دوبارہ مذاکرات پر مرکوز ہو سکتی ہے۔ سیاسی اختلافات برقرار رہے تو کارروائی 2027 تک مؤخر ہونے کا خطرہ ہے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk

شئیر کیجیے: