امریکی سینیٹ نے کرپٹو کرنسیوں کے لیے جامع ضابطہ متعارف کرانے والے کلیریٹی ایکٹ پر رواں ماہ ووٹنگ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے قانون کے رواں سال منظور ہونے کے امکانات کم ہوگئے ہیں۔ سینیٹ اگست کی تعطیلات سے قبل دیگر قانون سازی اور ترجیحی معاملات پر توجہ دے رہی ہے، جبکہ کلیریٹی ایکٹ کے بعض اہم نکات پر دونوں جماعتوں کے درمیان مذاکرات مکمل نہیں ہو سکے۔
یہ قانون ڈیجیٹل اثاثوں کی نگرانی، مختلف ریگولیٹرز کے اختیارات اور کرپٹو مارکیٹ میں کمپنیوں کے قانونی تقاضوں کے لیے ایک واضح وفاقی فریم ورک فراہم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ بل کی تاخیر سے کرپٹو صنعت کو مطلوبہ ریگولیٹری وضاحت مزید مؤخر ہو سکتی ہے، جبکہ سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں کے لیے پالیسی کا غیر یقینی ماحول برقرار رہے گا۔
سینیٹ کے دوبارہ اجلاس کے بعد قانون ساز ممکنہ طور پر بل کے متنازع نکات پر بات چیت جاری رکھیں گے۔ تاہم، آئندہ انتخابی سرگرمیوں اور محدود قانون سازی کے وقت کے باعث کلیریٹی ایکٹ کی منظوری کا عمل مزید مشکل ہو سکتا ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk