ارجنٹائن کے صدر جاویر میلی نے ایک نیا بل پیش کیا ہے جس کا مقصد مرکزی بینک کو حکومت کے اخراجات کی مالی معاونت سے روکنا ہے۔ اس بل کا اعلان انہوں نے قومی ٹی وی پر کیا جہاں انہوں نے مرکزی بینک کی اصلاحات کا خاکہ پیش کیا۔ اس اقدام کا مقصد ملک کی مالیاتی پالیسی کو مستحکم کرنا اور حکومت کے اخراجات پر قابو پانا ہے تاکہ مہنگائی اور مالی بحران کو کم کیا جا سکے۔ اس بل کے تحت مرکزی بینک کو آئندہ حکومت کے اخراجات کے لیے قرضہ فراہم کرنے سے روکا جائے گا، جو کہ ملک کی معیشت میں شفافیت اور استحکام لانے کی کوشش ہے۔ اس قانون کے نفاذ سے حکومت کو اپنی مالی پالیسیوں پر زیادہ ذمہ داری اٹھانی ہوگی اور ممکن ہے کہ بجٹ خسارے کو کم کرنے کے لیے مزید اصلاحات کی ضرورت پڑے۔ مالی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قدم ارجنٹائن کی معیشت کے لیے اہم ہو سکتا ہے، خاص طور پر اس وقت جب ملک مہنگائی اور مالی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔ مستقبل میں اس بل کے اثرات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ حکومت اور مرکزی بینک کس طرح تعاون کرتے ہیں اور اس قانون کو کس حد تک مؤثر طریقے سے نافذ کیا جاتا ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance