دنیا کی سب سے بڑی کارپوریٹ بٹ کوائن ہولڈر اسٹریٹجی بکس نے دوسری سہ ماہی میں بٹ کوائن کی قیمت میں کمی کی وجہ سے 8.2 ارب ڈالر کا نقصان اٹھایا ہے۔ کمپنی نے سرمایہ کاروں کی جانب سے اس کے بڑھتے ہوئے ترجیحی سیکیورٹیز کے اسٹیک پر سوالات کے بعد نقد رقم کا ایک ذخیرہ قائم کیا ہے جو دو سال سے زیادہ کے ڈیویڈنڈ ادائیگیوں کو پورا کرتا ہے۔ اس اقدام کا مقصد مالی استحکام کو یقینی بنانا اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کرنا ہے۔ مارکیٹ میں بٹ کوائن کی قیمت میں اتار چڑھاؤ کے باعث کمپنی کی مالی صورتحال پر اثر پڑا ہے، جس سے سرمایہ کاروں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ مستقبل میں، اگر بٹ کوائن کی قیمت میں استحکام نہ آیا تو اسٹریٹجی بکس کو مزید مالی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تاہم، نقد ذخیرہ بنانے سے کمپنی کو ممکنہ نقصانات سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔ مارکیٹ کے تجزیہ کار اس صورتحال کو بٹ کوائن کی قیمتوں کی غیر یقینی صورتحال کی عکاسی سمجھتے ہیں، جو مجموعی کرپٹو مارکیٹ پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk