جنوبی کوریا کا کرنسی وون امریکی ڈالر کے مقابلے میں پانچ ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ یہ اضافہ اس وقت سامنے آیا جب امریکی فیڈرل ریزرو نے اپنی شرح سود کو مستحکم رکھتے ہوئے 3.5 فیصد سے 3.75 فیصد کے درمیان برقرار رکھا۔ اس فیصلے کے باوجود، تین حکام نے شرح سود میں اضافے کی حمایت کی، جس سے یہ قیاس آرائیاں بڑھ گئیں کہ مستقبل میں سود کی شرح میں اضافہ ممکن ہے۔ وون کی مضبوطی میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کا بھی اہم کردار رہا جنہوں نے مقامی اسٹاک مارکیٹ میں بڑی سرمایہ کاری کی۔ تاہم، کوریا کا بنیادی اسٹاک انڈیکس کمی کا شکار رہا اور 1.23 فیصد کی کمی کے ساتھ بند ہوا۔ اس صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ مالیاتی پالیسیوں کے اثرات کرنسی اور اسٹاک مارکیٹ دونوں پر نمایاں ہیں۔ مستقبل میں شرح سود میں ممکنہ تبدیلیاں اور عالمی مالیاتی حالات کرنسی کی قدر اور سرمایہ کاری کے رجحانات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance