چین کی نیشنل انرجی ایڈمنسٹریشن نے اعلان کیا ہے کہ جون 2026 کے اختتام تک ملک میں الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ انفراسٹرکچر کی تعداد 23.057 ملین یونٹس تک پہنچ گئی ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 43.2 فیصد زیادہ ہے۔ اس میں عوامی چارجنگ سہولیات کی تعداد 5.009 ملین ہے جو 22.3 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے، جبکہ نجی چارجنگ سہولیات 18.048 ملین تک پہنچ گئی ہیں جو 50.4 فیصد اضافہ ہے۔ عوامی چارجنگ پوائنٹس کی مجموعی طاقت 247 ملین کلو واٹ ہے اور ہر چارجنگ گن کی اوسط طاقت تقریباً 49.35 کلو واٹ ہے۔ نجی چارجنگ پوائنٹس کے لیے رجسٹرڈ بجلی کی صلاحیت 155 ملین کلو واٹ اے ہے۔ اس ترقی سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت میں تیزی سے سرمایہ کاری اور انفراسٹرکچر کی توسیع کر رہا ہے، جو ملک کی ماحولیاتی پالیسیوں اور توانائی کی تبدیلی کی حکمت عملی کے مطابق ہے۔ اس کے علاوہ، پنگ این نیو انرجی وہیکل ای ٹی ایف میں بھی سرمایہ کاری میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس سے اس شعبے میں سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھ رہا ہے۔ مستقبل میں، اس انفراسٹرکچر کی توسیع سے الیکٹرک گاڑیوں کی قبولیت میں مزید اضافہ متوقع ہے، جس سے توانائی کے روایتی ذرائع پر انحصار کم ہو سکتا ہے اور ماحولیاتی آلودگی میں کمی آئے گی۔ تاہم، اس تیزی سے بڑھتی ہوئی مارکیٹ میں چارجنگ نیٹ ورک کی معیار اور استحکام کو یقینی بنانا ایک اہم چیلنج ہوگا۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance