بینک آف انگلینڈ کی جانب سے شرح سود کو 2026 تک مستحکم رکھنے کی توقعات نے مالیاتی مارکیٹ میں خاصی توجہ حاصل کی ہے۔ ING کے ماہرین اقتصادیات کے مطابق، بینک آف انگلینڈ کی تازہ ترین پیش گوئی میں افراط زر کی شرح اس سال کے دوسرے نصف اور آئندہ سال کے آغاز میں تقریباً 3 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے، جو کہ مرکزی بینک کی برداشت کی حد میں ہے۔ اس پیش گوئی کے مطابق، شرح سود میں کوئی تبدیلی 2026 تک متوقع نہیں ہے اور شرح سود میں کمی کا امکان اگلے مالیاتی چکر میں ہے۔ ING نے یہ بھی کہا کہ وہ بہار 2027 میں دو مرتبہ شرح سود میں کمی کی توقع رکھتا ہے، تاہم یہ انحصار کرتا ہے کہ خزاں کے بجٹ میں کوئی قابل ذکر مالیاتی محرک شامل نہیں کیا جاتا۔ اس دوران، برطانیہ کی کرنسی پاؤنڈ پر دباؤ بڑھا ہے کیونکہ سرمایہ کار نئے وزیر اعظم برنہم کی مالیاتی وعدوں کے بارے میں محتاط ہیں کہ انہیں کیسے پورا کیا جائے گا۔ اس صورتحال کا فوری اثر مالیاتی مارکیٹ پر پڑ رہا ہے اور سرمایہ کاروں کی محتاط رویہ برقرار ہے۔ مستقبل میں، اگر مالیاتی پالیسی میں کوئی غیر متوقع تبدیلی نہ آئی تو شرح سود میں استحکام برقرار رہنے کا امکان ہے، تاہم بجٹ یا سیاسی فیصلوں میں تبدیلیاں مارکیٹ کے رجحانات کو متاثر کر سکتی ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance