حالیہ اطلاعات کے مطابق، حوثی باغیوں کی جانب سے ریڈ سی میں بڑھتے ہوئے خطرات اور حملوں کے باعث خالی سپر ٹینکرز سعودی خام تیل لوڈ کرنے کے لیے مصر کے بحیرہ روم کے بندرگاہ صیدی کریر کی طرف روانہ ہو رہے ہیں۔ جہازوں کی نگرانی کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ کم از کم آٹھ بہت بڑے خام تیل بردار جہاز اگلے چند ہفتوں میں اس بندرگاہ پر پہنچنے والے ہیں۔ ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کی جانب سے ریڈ سی میں ایک جہاز پر حملے کے بعد سعودی آرامکو نے مصر کی بندرگاہ کے ذریعے تیل کی فراہمی میں اضافہ کیا ہے۔ اس صورتحال نے سعودی عرب کے ریڈ سی کے اہم بندرگاہ ینبو میں جہازوں کی آمد و رفت کو کم کر دیا ہے، جبکہ کچھ جہازوں نے ممکنہ طور پر نگرانی سے بچنے کے لیے اپنے ٹرانسپونڈرز بند کر دیے ہیں۔ اس تبدیلی کا فوری اثر تیل کی ترسیل کے راستوں پر پڑا ہے اور مارکیٹ میں تیل کی فراہمی کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ آئندہ کے دوران اگر حوثی حملے جاری رہے تو ریڈ سی کی تجارت مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے عالمی تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا خدشہ بڑھ جائے گا۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance