ایل سلواڈور نے 2026 کے پہلے نصف میں بیرون ملک سے 5 ارب ڈالر سے زائد کی رقوم وصول کیں، جن میں سے صرف 35.4 ملین ڈالر کرپٹو کرنسی کے ذریعے منتقل کیے گئے۔ مرکزی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق، کرپٹو کرنسی کے ذریعے رقوم کی منتقلی کا حصہ کل رقوم کا صرف 0.7 فیصد تھا، جو پچھلے سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 39.1 فیصد زیادہ ہے۔ تاہم، روایتی بینک اور رقوم کی منتقلی کرنے والی کمپنیاں اب بھی مارکیٹ کا 84 فیصد سے زیادہ حصہ رکھتی ہیں۔ 2021 میں بٹ کوائن کو قانونی ٹینڈر قرار دینے کے بعد حکومت نے کرپٹو کرنسی کے ذریعے رقوم کی منتقلی کے اخراجات کم کرنے کی کوشش کی، لیکن ڈیجیٹل اثاثوں کا استعمال محدود رہا۔ حکومت کی حمایت یافتہ چیوو والیٹ کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ قرض کے معاہدے کے تحت ختم کیا جا رہا ہے۔ اس صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ کرپٹو کرنسی کے ذریعے رقوم کی منتقلی کا رجحان ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور روایتی مالیاتی نظام کا غلبہ برقرار ہے۔ مستقبل میں اس شعبے میں مزید ترقی کے امکانات موجود ہیں، لیکن بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی پالیسیاں اور مقامی صارفین کی قبولیت اس پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance