وائٹ ہاؤس نے نیو یارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کی تردید کی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی حملوں میں نمایاں اضافہ کرنے کے منصوبے عارضی طور پر روک دیے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے کمیونیکیشن ڈائریکٹر اسٹیون چونگ نے واضح کیا ہے کہ صدر ٹرمپ سفارتی حل کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن اگر ایران ہرمز کے تنگے میں کارروائیاں جاری رکھتا ہے یا امریکی اتحادیوں کو نشانہ بناتا ہے تو وہ تمام ممکنہ اقدامات اختیار کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اس بیان سے خطے میں کشیدگی برقرار رہنے کا امکان ظاہر ہوتا ہے جس کا اثر عالمی مارکیٹوں اور خاص طور پر توانائی کی قیمتوں پر پڑ سکتا ہے۔ امریکی حکومت کی جانب سے سفارتی اور عسکری دونوں راستوں کو کھلا رکھنے کی حکمت عملی خطے میں غیر یقینی صورتحال کو بڑھا سکتی ہے، جس سے سرمایہ کاروں اور صارفین کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ مستقبل میں، اگر ایران کی جانب سے کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کے عالمی سطح پر معاشی اور سیاسی اثرات مزید گہرے ہو سکتے ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance