روس نے یوکرین کی جانب سے اس کے تیل کے شعبے پر حملوں میں شدت کے پیش نظر ڈیزل کی برآمدات پر پابندی کو ایک ماہ مزید بڑھانے پر غور شروع کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ملکی توانائی کے وسائل کو محفوظ بنانا اور اقتصادی دباؤ کو کم کرنا بتایا جا رہا ہے۔ روس کی یہ حکمت عملی عالمی توانائی مارکیٹ پر اثر انداز ہو سکتی ہے، خاص طور پر یورپی ممالک میں جہاں ڈیزل کی طلب زیادہ ہے۔ اس پابندی کی توسیع سے عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ متوقع ہے، جس سے صارفین اور صنعتوں کو مہنگائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ پابندی برقرار رہی تو توانائی کی فراہمی میں عدم توازن پیدا ہو سکتا ہے اور عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ روس اور یوکرین کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث توانائی کی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال برقرار رہے گی، جس سے سرمایہ کاروں اور صارفین دونوں کو چیلنجز کا سامنا ہو سکتا ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance