سینڈز چائنا نے اپنی دوسری سہ ماہی کی مالی کارکردگی میں نمایاں کمی ظاہر کی ہے۔ کمپنی کی ایڈجسٹڈ پراپرٹی ای بی آئی ٹی ڈی اے گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 24 فیصد کم ہو کر 430 ملین ڈالر رہ گئی ہے۔ پہلی ششماہی میں بھی ای بی آئی ٹی ڈی اے میں 3.45 فیصد کی کمی دیکھی گئی، جو 1.063 بلین ڈالر تک محدود رہی۔ یہ نتائج لاس ویگاس سینڈز کارپوریشن کی جانب سے جاری کیے گئے ہیں، جو سینڈز چائنا کی کنٹرولنگ شیئر ہولڈر ہے۔ مالی کارکردگی میں یہ کمی مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کے اعتماد پر اثر انداز ہو سکتی ہے اور کمپنی کی مستقبل کی منصوبہ بندی پر سوالات اٹھا سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ رجحان جاری رہا تو کمپنی کو اپنی حکمت عملی میں تبدیلی لانے کی ضرورت پڑ سکتی ہے تاکہ مالی استحکام برقرار رکھا جا سکے۔ اس کے علاوہ، مارکیٹ میں اس طرح کی مالی کمیوں کا اثر دیگر متعلقہ شعبوں پر بھی پڑ سکتا ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں سینڈز چائنا کی سرگرمیاں زیادہ ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance