بٹ کوائن نے حالیہ دنوں میں دو ہفتوں کی بلند ترین سطح تقریباً 65,500 ڈالر کے قریب پہنچ کر سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کی ہے۔ ایشیائی سیمی کنڈکٹرز کے حصص میں مضبوط بحالی دیکھی گئی ہے، جس نے مارکیٹ میں مثبت جذبہ پیدا کیا ہے۔ اس کے علاوہ، پانچ دنوں پر محیط ای ٹی ایف میں مسلسل سرمایہ کاری کا سلسلہ 600 ملین ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے، جو بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو کرنسیوں کے لیے اعتماد کی علامت ہے۔ مشرق وسطیٰ میں سفارتی کوششوں کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی ہے، جس سے عالمی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ یہ عوامل مجموعی طور پر کرپٹو مارکیٹ میں استحکام اور ممکنہ ترقی کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔ مستقبل میں، اگر سیمی کنڈکٹر سیکٹر میں مزید بہتری اور عالمی سیاسی صورتحال میں استحکام برقرار رہا تو بٹ کوائن کی قیمتوں میں مزید اضافہ متوقع ہے، تاہم عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال اور جغرافیائی سیاسی کشیدگیوں کے باعث خطرات بھی موجود ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk