مشرق وسطیٰ میں امریکی اور ایرانی کشیدگی کے بڑھنے کے بعد سویابین اور مکئی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافہ توانائی کی منڈیوں میں بایوفیولز کی طلب کو بڑھا رہا ہے، جس کا اثر زرعی اجناس کی قیمتوں پر بھی پڑ رہا ہے۔ اس صورتحال نے کسانوں اور سرمایہ کاروں کے لیے مارکیٹ میں نئی ممکنات پیدا کی ہیں، جبکہ صارفین کو خوراک کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی جاری رہی تو عالمی مارکیٹوں میں مزید اتار چڑھاؤ متوقع ہے، جس سے زرعی مصنوعات کی فراہمی اور قیمتوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، توانائی کے شعبے میں بھی غیر یقینی صورتحال برقرار رہنے کا خدشہ ہے، جو عالمی معیشت پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance