ایشیا کے حصص بازار میں چپ ساز کمپنیوں کی فروخت دوسرے دن بھی جاری رہی جس سے سرمایہ کاروں میں مصنوعی ذہانت (AI) کی سرمایہ کاری کے موجودہ تخمینوں پر شبہات پیدا ہو گئے ہیں۔ MSCI ایشیا پیسیفک انڈیکس میں 1.2 فیصد کی کمی ہوئی جبکہ جاپان کا نکی 225 تقریباً 3 فیصد گر گیا۔ کیوکسیہ کی قیمت میں ایک دن کے دوران 16 فیصد کمی ہوئی اور یہ گزشتہ ماہ کی بلند ترین سطح سے 50 فیصد سے زائد نیچے آ گئی۔ ٹی ایس ایم سی کی آمدنی کے باوجود اس کے حصص کی قیمت میں 3 فیصد سے زائد کمی دیکھی گئی کیونکہ کمپنی نے اپنے اخراجات میں اضافہ کیا۔ اس دوران، فلیڈلفیا سیمی کنڈکٹر انڈیکس جون کی چوٹی سے تقریباً 19 فیصد نیچے آ چکا ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ AI انفراسٹرکچر پر اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے باوجود مارکیٹ میں اس کی واپسی کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال پائی جاتی ہے۔ نیٹ فلکس کے حصص میں 9 فیصد کی کمی اور گوگل کی AI ماڈل کی تاخیر نے بھی اس شبہ کو مزید تقویت دی ہے کہ AI کی ایپلیکیشنز کی معاشی کارکردگی سرمایہ کاری کی توقعات پر پورا نہیں اتر رہی۔ سرمایہ کار اب اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ آیا AI کی سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والے منافع اس قدر بڑے اخراجات کو جواز فراہم کر سکیں گے یا نہیں۔ مستقبل میں اس صورتحال کا اثر چپ ساز صنعت اور متعلقہ مارکیٹوں پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance