ہرمز کی تنگی میں رکاوٹ عالمی معیشت کے لیے نئے خطرات کا باعث بن سکتی ہے

Crypto-urdu News

بین الاقوامی توانائی ایجنسی (IEA) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر فاطح بیرو نے خبردار کیا ہے کہ اگر ہرمز کی تنگی میں جاری تنازعہ چند ہفتوں میں حل نہ ہوا تو عالمی معیشت کو نئے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ہرمز کی تنگی ایک اہم سمندری گزرگاہ ہے جہاں سے تیل، کھاد، قدرتی گیس اور دیگر اشیاء کی ترسیل ہوتی ہے۔ حالیہ ہفتوں میں اس گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جو حملوں اور امریکی پابندیوں کی وجہ سے ہے۔ سعودی عرب کی تیل کی برآمدات میں بھی کمی آئی ہے، جس سے عالمی توانائی کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے۔ بین الاقوامی بحری تنظیم نے بھی اس علاقے کو تجارتی جہاز رانی کے لیے خطرناک قرار دیا ہے۔ امریکہ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں تیز کر دی ہیں تاکہ ہرمز کی تنگی میں جہازوں کو لاحق خطرات کو کم کیا جا سکے۔ ایران نے اس گزرگاہ کو اپنی قومی سلامتی کا ستون قرار دیا ہے اور اس کی حفاظت پر زور دیا ہے۔ اگر یہ گزرگاہ بند رہی تو نہ صرف خطے بلکہ ایشیا کے ترقی پذیر ممالک جیسے بنگلہ دیش، پاکستان اور بھارت کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ عالمی معیشت کے لیے ضروری ہے کہ یہ گزرگاہ جلد از جلد مکمل طور پر کھول دی جائے تاکہ توانائی اور خام مال کی فراہمی میں رکاوٹ نہ آئے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance

ٹیگز:
شئیر کیجیے: