بٹ کوائن کی قیمت نے امریکی مہنگائی کے نرم اعداد و شمار کے بعد 65,500 ڈالر سے تجاوز کر لیا ہے۔ امریکی محکمہ محنت کی رپورٹ کے مطابق جون میں پروڈیوسر پرائس انڈیکس میں چودہ ماہ کی سب سے بڑی کمی دیکھی گئی ہے، جس سے سرمایہ کاروں میں کم شرح سود کی توقعات پیدا ہوئی ہیں۔ بٹ کوائن کی قیمت میں دو فیصد کا اضافہ ہوا ہے، جو اس کی حالیہ قیمت کو تقریباً 64,943 ڈالر تک لے گیا ہے۔ مہنگائی میں کمی کے باوجود، امریکی اور ایرانی کشیدگی میں اضافہ مارکیٹ کے لیے ایک غیر یقینی عنصر ہے۔ امریکی صدر نے ہرمز کی تنگی پر کنٹرول کا اعلان کیا ہے اور ایران پر بمباری بڑھانے کی دھمکی دی ہے، جس سے عالمی تیل کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے۔ بٹ کوائن کی قیمت میں اتار چڑھاؤ اس خطے کی کشیدگی کی وجہ سے بڑھا ہے، اور سرمایہ کار اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ نئے فیڈرل ریزرو چیئرمین کے مہنگائی کے خلاف سخت موقف نے بھی مارکیٹ میں دلچسپی بڑھائی ہے۔ مستقبل میں شرح سود کی پالیسی اور جغرافیائی سیاسی حالات بٹ کوائن کی قیمت پر اثر انداز ہو سکتے ہیں، جس سے سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: bitcoinmagazine