بٹ کوائن کی قیمت نے $62,600 کی سطح پر استحکام دکھایا ہے جبکہ ایران میں جاری تنازعہ نے عالمی تیل کی قیمتوں کو بڑھا دیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی ہرمز کی ناکہ بندی کی بحالی نے تیل کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے جس کے نتیجے میں سود کی شرح میں اضافے کی توقعات بھی بڑھ گئی ہیں۔ یہ صورتحال جولائی کے اوائل میں بٹ کوائن کی بحالی کے لیے سازگار امن تجارتی ماحول کو پلٹ کر رکھ دیا ہے۔ آج کے مہنگائی کے اعداد و شمار کو مارکیٹ میں ایک اہم آزمائش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو مستقبل کی معاشی پالیسیوں اور مالیاتی مارکیٹوں پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ ایران کے تنازعے اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خدشات نے سرمایہ کاروں میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے جس کی وجہ سے کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ متوقع ہے۔ آئندہ دنوں میں مہنگائی کے اعداد و شمار اور جغرافیائی سیاسی حالات کی پیش رفت پر نظر رکھی جائے گی تاکہ مارکیٹ کی سمت کا بہتر اندازہ لگایا جا سکے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk