مصنوعی ذہانت کے معاہدے مائنرز کی قیمتوں پر اثر انداز ہو رہے ہیں، بٹ کوائن نہیں

مالیاتی تجزیہ کاروں کے مطابق، موجودہ مارکیٹ میں مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹرز کے معاہدے مائننگ کمپنیوں کی قیمتوں پر زیادہ اثر ڈال رہے ہیں، جبکہ بٹ کوائن کی قیمتوں کا اثر کم دکھائی دے رہا ہے۔ کمپاس پوائنٹ کے ماہرین نے بتایا ہے کہ اربوں ڈالر کے معاہدے ہونے کے باوجود مارکیٹ میں اس حوالے سے کم توجہ دی جا رہی ہے۔ اس صورتحال کا مطلب یہ ہے کہ سرمایہ کار مستقبل میں مصنوعی ذہانت کے انفراسٹرکچر کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو مکمل طور پر تسلیم نہیں کر رہے۔ اس کے نتیجے میں، کچھ مائننگ کمپنیاں جیسے کہ سائفر اور ٹیرا ولف کی قیمتیں نسبتاً کم سمجھی جا رہی ہیں، جو ممکنہ طور پر سرمایہ کاری کے لیے ایک موقع فراہم کر سکتی ہیں۔ مارکیٹ میں اس رجحان کے جاری رہنے کی صورت میں، مستقبل میں مصنوعی ذہانت کے شعبے میں سرمایہ کاری میں اضافہ متوقع ہے، جو مائننگ سیکٹر کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ تاہم، اس تبدیلی کے ساتھ کچھ خطرات بھی وابستہ ہیں، جیسے کہ ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی اور ممکنہ ریگولیٹری چیلنجز۔ مجموعی طور پر، یہ صورتحال مارکیٹ کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جس میں مصنوعی ذہانت اور کرپٹو کرنسی دونوں کا کردار بڑھتا جائے گا۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk

ٹیگز:
شئیر کیجیے: