امریکی تیل کی بڑی کمپنیوں ایکسن موبل اور شیورون نے دوسری سہ ماہی میں ریکارڈ منافع کی اطلاع دی ہے جو کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کی وجہ سے ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا نتیجہ ہے۔ مالیاتی ذرائع کے مطابق، ان کمپنیوں کے منافع میں گزشتہ سہ ماہی کے مقابلے میں دوگنا اضافہ ہوا ہے، جس کی بنیادی وجہ خام تیل، ڈیزل اور جیٹ فیول کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔ اس کے علاوہ، ماراتھون پیٹرولیم اور ویلرو جیسی دیگر کمپنیوں نے بھی مضبوط مالی نتائج کا اعلان کیا ہے۔ اس منافع میں اضافے نے واشنگٹن میں سیاسی ردعمل کو جنم دیا ہے، خاص طور پر امریکی وسط مدتی انتخابات کے پیش نظر۔ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تیل کمپنیوں پر قیمتیں بڑھانے کا الزام عائد کیا ہے اور انصاف محکمہ کو قیمتوں کی جانچ پڑتال کی ہدایت دی ہے۔ امریکی صارفین کے لیے ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس سے عوامی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری رہنے کا امکان ہے، خاص طور پر خطے میں کشیدگی کی صورت میں۔ اس صورتحال کے پیش نظر، مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال برقرار رہ سکتی ہے جو صارفین اور صنعت دونوں کے لیے چیلنجز پیدا کر سکتی ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance