بٹ کوائن ٹریژری کمپنیوں کے لیے ترجیحی اسٹاک ایک مقبول مالیاتی ذریعہ بنتا جا رہا ہے

بٹ کوائن ٹریژری کمپنیوں نے ترجیحی اسٹاک کو اپنی مالیاتی حکمت عملی کا اہم حصہ بنا لیا ہے، جو اب ایک اربوں ڈالر کے بازار میں تبدیل ہو چکا ہے۔ یہ اسٹاک عام شیئر ہولڈرز کی تعداد میں اضافے کے بغیر سرمایہ فراہم کرتا ہے اور قرض کی طرح مقررہ تاریخ پر ادائیگی کا تقاضا نہیں کرتا، جس سے کمپنیوں کو بٹ کوائن کی قیمت میں اتار چڑھاؤ کے دوران مالی مشکلات سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سرمایہ کاروں کو بٹ کوائن کی قیمت میں تبدیلی کے باوجود مستقل منافع ملتا ہے، جو روایتی فکسڈ انکم مارکیٹ سے کہیں زیادہ ہے۔ اس وقت اس مارکیٹ کی مالیت تقریباً 13 ارب ڈالر ہے اور توقع ہے کہ 2030 تک یہ 3 سے 5 فیصد تک بڑھ جائے گی۔ اس مالیاتی آلے کی مقبولیت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ بٹ کوائن کو بطور اثاثہ رکھنے والی کمپنیاں اپنی مالی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے نئے اور موثر طریقے تلاش کر رہی ہیں۔ تاہم، اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ بٹ کوائن کی قیمت میں اتار چڑھاؤ اور مارکیٹ کی لیکویڈیٹی کو مدنظر رکھا جائے تاکہ مالی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔ مستقبل میں اس رجحان کے بڑھنے سے بٹ کوائن کی مالیاتی مارکیٹ میں اہم تبدیلیاں متوقع ہیں جو سرمایہ کاروں اور کمپنیوں دونوں کے لیے نئے مواقع اور چیلنجز لے کر آئیں گی۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: bitcoinmagazine

شئیر کیجیے: