گزشتہ چند ماہ کے دوران سونے کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی ہے جس کی بنیادی وجہ حقیقی شرح سود میں اضافہ اور امریکی ڈالر کی مضبوطی ہے۔ مالی ماہرین کے مطابق یہ کمی عارضی نوعیت کی ہے اور اسے مارکیٹ کی درمیانی مدت کی اصلاح سمجھا جا رہا ہے، نہ کہ مکمل رجحان کی تبدیلی۔ سونے کی مارکیٹ میں طویل مدتی بل مارکیٹ کا ڈھانچہ اب بھی قائم ہے جس کا مطلب ہے کہ مستقبل میں سونے کی قیمتوں میں اضافہ متوقع ہے۔ ماہرین نے کہا ہے کہ اگر حالات سازگار رہے تو سونے کی قیمتیں 4600 ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں، جو سرمایہ کاروں کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے۔ اس صورتحال کا اثر عالمی مالیاتی منڈیوں پر بھی پڑ سکتا ہے، جہاں سرمایہ کار سونے کو ایک محفوظ اثاثہ سمجھتے ہیں۔ تاہم، شرح سود اور ڈالر کی طاقت میں مزید تبدیلیاں اس رجحان کو متاثر کر سکتی ہیں، جس کی وجہ سے سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ مجموعی طور پر، سونا اب بھی سرمایہ کاری کے لیے ایک مضبوط آپشن کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، خاص طور پر ان افراد کے لیے جو طویل مدتی فوائد چاہتے ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance