تیل کی قیمتیں فروری کے آخر کے بعد سے اپنی سب سے کم سطح کے قریب تجارت کر رہی ہیں کیونکہ امریکہ اور ایران نے ایک دوسرے پر حملے روکنے پر اتفاق کیا ہے۔ اس پیش رفت نے عالمی توانائی مارکیٹ میں استحکام پیدا کیا ہے، جو حالیہ ہفتے کے دوران ہرمز کے قریب ایک سپر ٹینکر پر حملے کے باعث کشیدگی کا شکار تھی۔ اس معاہدے سے تیل کی فراہمی کے خطرات کم ہوئے ہیں اور سرمایہ کاروں میں اعتماد بحال ہوا ہے۔ مارکیٹ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ امن قائم رہا تو تیل کی قیمتوں میں مزید استحکام متوقع ہے، تاہم خطے میں کسی بھی نئی کشیدگی سے قیمتوں میں اچانک اضافہ ہو سکتا ہے۔ عالمی معیشت کے لیے تیل کی قیمتوں میں استحکام اہم ہے کیونکہ یہ توانائی کی لاگت اور مہنگائی پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اس لیے سرمایہ کار اور صارفین دونوں اس صورتحال کو قریب سے دیکھ رہے ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance