امریکہ کی سات سالہ ٹریژری نیلامی میں مختص فیصد میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے جو 25 جون تک 36.22 فیصد تک گر گئی ہے۔ یہ کمی پچھلے ریکارڈ 71.23 فیصد کے مقابلے میں خاصی نمایاں ہے۔ اس تبدیلی کا مطلب ہے کہ سرمایہ کاروں کی دلچسپی میں کمی واقع ہوئی ہے، جو مالیاتی مارکیٹوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ اس صورتحال سے امریکی بانڈز کی طلب میں کمی کا اشارہ ملتا ہے، جو سود کی شرحوں اور مالیاتی پالیسی پر اثرانداز ہو سکتی ہے۔ مارکیٹ کے ماہرین کا خیال ہے کہ اس کمی کے باعث سرمایہ کار دیگر متبادل سرمایہ کاری کے ذرائع کی طرف مائل ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، اس تبدیلی کے نتیجے میں مالیاتی مارکیٹوں میں اتار چڑھاؤ بڑھنے کا امکان بھی موجود ہے۔ سرمایہ کاروں اور پالیسی سازوں کو اس صورتحال پر غور کرتے ہوئے مستقبل کی حکمت عملی ترتیب دینی ہوگی تاکہ مالی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance