بینک آف کینیڈا کی حالیہ میٹنگ کے منٹس میں بتایا گیا ہے کہ پالیسی سازوں نے شرح سود کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ مہنگائی کے خطرات اور کمزور اقتصادی نمو کے درمیان توازن قائم رکھا جا سکے۔ اس فیصلے کا مقصد مہنگائی کی ممکنہ بلند سطحوں اور اقتصادی سرگرمیوں میں سست روی کے درمیان توازن برقرار رکھنا تھا۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ حکمت عملی مارکیٹ میں استحکام پیدا کرنے اور صارفین و سرمایہ کاروں کو غیر یقینی صورتحال سے بچانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، اس فیصلے سے مستقبل میں شرح سود میں اچانک تبدیلیوں کے امکانات کم ہو سکتے ہیں، جس سے کاروباری ماحول میں پائیداری آئے گی۔ تاہم، اگر مہنگائی میں اضافہ جاری رہا یا اقتصادی نمو مزید کمزور ہوئی تو بینک آف کینیڈا کو اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرنا پڑ سکتی ہے۔ اس فیصلے کا اثر کینیڈا کی معیشت کے علاوہ عالمی مالیاتی منڈیوں پر بھی پڑ سکتا ہے، خاص طور پر ان ممالک میں جو کینیڈا کے ساتھ قریبی تجارتی تعلقات رکھتے ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance