کیون وارش نے حال ہی میں فیڈرل اوپن مارکیٹ کمیٹی کا پہلا اجلاس صدارت کے طور پر منعقد کیا جس میں انہوں نے مہنگائی کو کنٹرول کرنے اور قیمتوں کی استحکام کو یقینی بنانے پر زور دیا۔ ان کا رویہ سخت گیر تھا لیکن انہوں نے شرح سود کو مستحکم رکھا۔ وارش کی کوشش ہے کہ امریکی ڈالر کی قدر کو مستحکم رکھا جائے، جو کہ مسلسل انسانی مداخلت کا متقاضی ہے تاکہ کرنسی کی قدر میں کمی اور افراط زر کو روکا جا سکے۔ دوسری جانب، بٹ کوائن کی فراہمی سخت حد بندی کے ساتھ خودکار ہے، جسے کوئی بھی مرکزی اتھارٹی تبدیل نہیں کر سکتی۔ بٹ کوائن کی کل فراہمی 21 ملین سکے تک محدود ہے اور اس کی پیداوار ایک شفاف اور الگورتھمک نظام کے تحت ہوتی ہے جو ہر چار سال بعد نصف ہو جاتی ہے۔ اس سے بٹ کوائن کی قدر میں استحکام آتا ہے اور یہ مرکزی بینک کے نظام سے مختلف ہے جہاں پیسے کی فراہمی سیاسی اور معاشی عوامل کے تابع ہوتی ہے۔ وارش کی حکمت عملی سے یہ واضح ہوتا ہے کہ امریکی ڈالر کو قابو میں رکھنے کے لیے مسلسل نگرانی اور پالیسیاں درکار ہیں، جبکہ بٹ کوائن کا نظام خودکار اور غیر متغیر ہے۔ اس فرق کی وجہ سے بٹ کوائن کو ایک متبادل مالی نظام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو مہنگائی کے اثرات سے محفوظ رہتا ہے۔ مستقبل میں، اگرچہ فیڈ کی پالیسیاں مہنگائی کو کم کرنے کی کوشش کریں گی، مگر بٹ کوائن کی محدود فراہمی اسے ایک منفرد مالی اثاثہ بناتی ہے جو روایتی کرنسیوں کی نسبت زیادہ قابل اعتماد ہو سکتا ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: bitcoinmagazine