گولڈمین ساکس گروپ نے کہا ہے کہ برطانوی پاؤنڈ کو بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ یہ پوسٹ بریگزٹ سیل آف سے بحالی کے بعد اپنے اہم ہم منصبوں میں سب سے زیادہ قیمت والا کرنسی بن چکا ہے۔ بینک کے مطابق، سٹرلنگ اب G10 کرنسیوں میں سب سے زیادہ قیمت والا کرنسی ہے۔ اس صورتحال کا مطلب یہ ہے کہ برطانوی کرنسی کی قدر مارکیٹ میں اس کی حقیقی معاشی حالت سے زیادہ ہے، جو سرمایہ کاروں اور تاجروں کے لیے خطرات پیدا کر سکتی ہے۔ اس سے برطانوی برآمدات مہنگی ہو سکتی ہیں اور درآمدات سستی، جس سے تجارتی توازن پر اثر پڑ سکتا ہے۔ مارکیٹ میں اس دباؤ کے باعث کرنسی کی قیمت میں اتار چڑھاؤ متوقع ہے، جو سرمایہ کاروں کی حکمت عملیوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ مستقبل میں، اگر معاشی یا سیاسی حالات میں کوئی بڑی تبدیلی نہ آئی تو برطانوی پاؤنڈ کی قدر میں کمی کا امکان ہے، جو عالمی مالیاتی مارکیٹوں میں بھی ردعمل پیدا کر سکتا ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance