بٹ کوائن کی قیمت میں کمی، فیڈ کی ہاکش پالیسی کے باعث مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال

بٹ کوائن کی قیمت میں حالیہ دنوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے، جو فیڈرل ریزرو کی ہاکش پالیسی کی تبدیلی کے باعث ہوئی ہے۔ قیمت 66,315 ڈالر سے گر کر تقریباً 62,000 ڈالر تک پہنچ گئی ہے، جس سے مارکیٹ میں گہرے انحطاط کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ فیڈرل ریزرو نے اپنی شرح سود کو 3.50 فیصد سے 3.75 فیصد کے درمیان برقرار رکھا ہے، لیکن مستقبل میں شرح سود میں اضافے کے امکانات کو بڑھا دیا ہے۔ اس فیصلے نے مالیاتی مارکیٹوں میں غیر یقینی صورتحال کو جنم دیا ہے، جس کے نتیجے میں بٹ کوائن سمیت دیگر کرپٹو کرنسیاں اور اسٹاک مارکیٹس متاثر ہوئی ہیں۔

اس دوران، جغرافیائی سیاسی تناؤ میں کمی کے باوجود بٹ کوائن کی قیمت میں استحکام نہیں آیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ مالیاتی پالیسیاں مارکیٹ کے رجحانات پر غالب ہیں۔ سرمایہ کاروں کی توجہ 26 جون کو ختم ہونے والے بٹ کوائن آپشنز پر بھی مرکوز ہے، جہاں بڑی تعداد میں کال اور پٹ آپشنز کی کھلی پوزیشنز موجود ہیں، جو قیمت کی مزید اتار چڑھاؤ کا باعث بن سکتی ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر قیمت 62,000 ڈالر کی سطح سے نیچے گر گئی تو یہ 60,000 ڈالر یا اس سے بھی کم کی جانب گراوٹ کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، امریکی مارکیٹ میں بٹ کوائن کے لیے سرمایہ کاری کی طلب میں کمی بھی ایک چیلنج ہے۔ مجموعی طور پر، موجودہ مالیاتی اور جغرافیائی حالات بٹ کوائن کی قیمت پر دباؤ ڈال رہے ہیں، اور سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: bitcoinmagazine

ٹیگز:
شئیر کیجیے: