کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے جس کی وجہ حالیہ ہاکش فیڈرل اوپن مارکیٹ کمیٹی (ایف او ایم سی) کے اجلاس کے بعد شرح سود میں اضافے کے امکانات ہیں۔ بٹ کوائن کی قیمت میں نمایاں کمی واقع ہوئی اور یہ تقریباً 64 ہزار ڈالر تک گر گیا۔ اس صورتحال نے سرمایہ کاروں میں تشویش پیدا کر دی ہے کیونکہ شرح سود میں اضافے کا مطلب عام طور پر مارکیٹ میں سرمایہ کاری کی لاگت بڑھنا ہوتا ہے، جو کرپٹو کرنسیوں کی قیمتوں پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ مارکیٹ کے ماہرین کے مطابق، اس کمی کی وجہ ایف او ایم سی کے رکن کی جانب سے سخت پالیسی کے اشارے اور سرمایہ کاروں کی جانب سے جلد شرح سود میں اضافے کی توقعات ہیں۔ اس کے علاوہ، کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ بٹ کوائن کے بڑے سرمایہ کاروں کی فروخت نے بھی اس گراوٹ میں کردار ادا کیا ہے۔ سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ شرح سود میں مزید اضافے کی صورت میں کرپٹو مارکیٹ میں مزید دباؤ آ سکتا ہے۔ اس صورتحال میں مارکیٹ کی بحالی کے لیے ممکنہ طور پر مرکزی بینک کی پالیسی میں نرمی یا دیگر مالیاتی اقدامات کی ضرورت ہو سکتی ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt